Office No. 24, 2nd Floor, Zaki Centre, I-8 Markaz, Islamabad

نوجوان – نارکوٹکس کے لیے بہترین شکار

تحریر – ڈاکٹر نایاب ھاشمی

نوجوان ۔ مستقبل کے معمار ، قوم و ملت کی شان ، حوصلے کا نشان ، کمزوروں کی آس ، قائدانہ صلاحیتوں سے بھرپور، دنیا کو آگے بڑھانے کے لئے سب سے اہم کردار ۔ نوجوان چاہے کسی گھر کا فرد ہو، محلے کا ، شہر کا ، قوم کا ، یا ملک کا ، وہ امید کا ایسا چراغ ہوتا ہے جس کی روشنی سے بچے بوڑھے عورتیں راستہ پاتے ہیں ۔ اس لیے اس نوجوان کو ذہنی و جسمانی دلی اور روحانی ایمانی طور پر مضبوط ہونا بہت ضروری ہے ۔ اللہ نے بھی نوجوانی کی عبادت کو پسند فرمایا ہے ۔ کیوں کہ نوجوانی میں انسان صحت مند ہوتا ہے ۔ جوش و ولولہ ، کچھ کر دکھانے کا جذبہ ، کچھ بن جانے کا عزم ، قوم کی ہمدردی ، ہرطرح کے حالات سے لڑ جانے کا جوش عروج پر ہوتا ہے ۔ اور یہی نوجوان اگر منشیات کی لت میں پڑ جائے تو صرف ایک گھر ہی نہیں بلکہ کئی بار پوری کی پوری قوم تباہ و برباد ہو جاتی ہے۔

اس وقت پوری دنیا میں منشیات کا استعمال عام ہوگیا ہے۔ بالخصوص نوجوان نسل تو اس زہر کو نسخہ کیمیا سمجھ رہی ہے ۔ دوسروں کو دیکھ کر ان میں انگڑائی لینے والا جذبہ اشتیاق عروج پر ہے جو نوجوانوں کو تباہ و برباد ، ان کی زندگیوں کو تاریک اندھیرا اور جوانی کو رفتہ رفتہ کھوکھلا کرتا چلا جا رہا ہے اور ہمارا معاشرہ دن بدن کمزور بن رہا ہے ۔
تعلیمی اداروں میں منشیات کا استعمال فیشن بن گیا ہے ۔ نوجوان نسل تمباکو ، چرس ، ہیروئن، افیم ، گانجہ اور دیگر جدید قسم کی منشیات ، ان کے نقصانات سے بے خبر اور خود کی تسکین کے لئے استعمال کررہے ہیں۔ نشہ آور اشیاء بآسانی دستیاب ہیں ۔ ایک شخص دوسرے شخص کو عادی بنانے کی کو شش میں لگا ہے ۔

نوجوان ، دوستوں کے دباؤ و ذہنی الجھنوں سے بچنے کے لئے بھی نشہ کرتے ییں اور دیگر ان کے استعمال میں اضافے کا سبب فلموں و ڈراموں کے کردار ہیں ۔ کسی نہ کسی شکل میں نشہ خوری کے مناظر تمام فلموں اور ڈراموں میں دکھائے جاتے ہیں ۔ یہ چیز بھی نوجوانوں میں منشیات کی لت پیدا کرنے کا ایک بنیادی سبب ہے۔ رشتوں میں بڑھتے ہوئے تناؤ ، معاشی پریشانیاں ، ناکامی ، لوگوں سے آگے بڑھنے کی چاہ ، اور حسد و جلن ، نوجوانوں کو ، ڈپریشن ، اسٹریس ، اینزائٹی کے ساتھ ساتھ منشیات کا بھی عادی بنا رہے ہیں –

سائینسی تحقیق کے مطابق منشیات کی لت لگنے کے بعد انسان اپنے اھل و عیال ، دوستوں و سماج سے الگ رہنا پسند کرتا ہے ۔ وہ اپنی اس لت کو پورا کرنے کے لئے کسی بھی حد تک جا سکتا ہے ۔

منشیات کے عادی افراد بہت سی بیماریوں کو دعوت دیتے ہیں ۔ دل کی بیماریوں میں زیادہ تر تعداد منشیات کے استعمال کرنے والوں کی ہوتی ہے ۔ ذیابطیس میں مبتلا زیادہ تعداد منشیات کے عادی افراد کی ہے ۔ منہ جگر پھیپڑے معدے کا کینسر بھی اس کا سبب بن رہا ہے ۔

ان حالات میں ریہیبلیٹیشن سینٹرز کچھ حد تک اپنا کام ضرور کر رہے ہیں ۔ لیکن یہ بہت محدود ہے ۔ کئی ریہیبلیٹیشن سنٹرز میں علاج مفت میں نہیں کیا جاتا ۔ نشے کی لت میں پڑے ہوئے افراد کے خاندان پہلے ہی معاشی مار جھیل رہے ہوتے ہیں ۔ ہر علاج کروانے کے قابل نہیں ہوتا ۔ اور آخر کار موت آ جاتی ہے ۔

علاج تو آخری مرحلہ ہوتا ہے ۔ ان حالات میں ہم کیا کر سکتے ہیں یہ زیادہ اہم ہیں ۔ سماجی سطح پر ان افراد کو آگاہی دی جائے ۔ ان کے لئے پروگرام مرتب کئے جائیں ۔ انہیں اچھے کاموں کی ترغیب دلائی جائے ۔ اس لت کی خرابیاں ، بیماریاں اجاگر کی جائے ۔ ان کی ہر لمحہ حوصلہ افزائی کی جائے ۔ بڑے پیمانے پر مفت میں یا کم فیصلے کر ریہیبلیٹیشن سینٹر قائم کیے جائیں ۔ اسکول کالجز میں اس تعلق سے سیمینارز رکھے جائیں ۔ سوشل میڈیا پر کمپین چلائیں جائیں ۔ ڈرگ مافیا کے خلاف سخت ایکشن لینے کے لئے حکومت اور پولیس کو مجبور کردیا جائے ۔ اپنے گھر ، پڑوس ، اسکولز اور کالجز میں لوگوں پر نظر رکھی جائے کے کون منشیات بیچ رہا ہے اور کون اس میں مبتلا ہو رہا ہے ۔ اور اس کے خلاف ایکشن لیا جائے ۔

نشے سے چھٹکارا پانے والے افراد سے معاشرہ اچھا سلوک کرے ۔ ان سے نفرت نہیں کی جائے بلکہ ان کی مدد کی جائے تاکہ وہ دوبارہ اس برائی سے دور رہیں اور سماج کا حصہ بنے رہیں ۔

Leave a comment