Office No. 24, 2nd Floor, Zaki Centre, I-8 Markaz, Islamabad

علم

علم یا پھر نفع بخش علم ؟
علم کا حصول کیوں اتنا اہم قرار دیا گیا ؟
کیوں حدیث شریف میں ہر مسلمان مرد و عورت پر علم کا حصول فرض قرار دیا گیا؟
میری ناقص عقل کے مطابق اس کا جواب یہ ہے کہ انسان اپنے خالق کی ذات اور اپنی خودی سے آشنا ہو سکے۔
تا کہ وہ جان سکے کہ علم ہی انسان کی معرفت کا راز ہے۔
یہی وہ سفینہ ہے جو انسان کو بہتر یا بدتر بناتا ہے۔
علم کی اہمیت کی اس سے بڑی دلیل کیا ہو گی کہ قران مجید میں ارشاد ہے
“کیا علم والے اور لا علم برابر ہو سکتے ہیں”
اور
“ہر علم والے کے اوپر ایک اور علم والا ہے”
یعنی کوئی یہ نہ سمجھے کہ وہ سب سے بڑا عالم ہے۔ اللہ تعالی نے واضح فرما دیا کہ علم والے سے اوپر بھی علم والا ہے اور سب سے بڑھ کر علم و حکمت والی ذات خود مالک دو جہان کی ہے۔
جیسا کہ موسی علیہ السلام کو اللہ نے حضرت خضر سے ملوایا تا کہ ان پر بھی یہ بات واضح ہو جائے کہ وہ سب سے ذیادہ علم والے نہیں۔
ہمارا تو آغاز ہی اقراء سے ہوا تھا۔ ہم کیونکر علم سے بے فیض رہیں۔ ہم کیوں علم کو معمولی سمجھیں۔
علم بغیر عمل کے بے معنی ہے
حصول علم پر غرور تباہی ہے

جیسا کہ شاعر مشرق نے فرمایا

اللہ سے کرے دور ، تو تعلیم بھی فتنہ
املاک بھی اولاد بھی جاگیر بھی فتنہ
ناحق کے لیے اٹھے تو شمشیر بھی فتنہ
شمشیر ہی کیا نعرہ تکبیر بھی فتنہ
علامہ اقبال✨
🌼ہمارے نبی محترم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیشہ نفع دینے والے علم کی باقاعدہ دعا فرمائی۔
علم تو ابلیس کے پاس بھی تھا لیکن عمل کے وصف سے آزاد۔
علم اگر ذات میں گھمنڈ پیدا کرے تو وہ بے کار ہے۔
اگر اللہ کی راہ میں علم کے ذریعے کام کیا جائے تو جہاد ہے۔
جہاد بالقلم
یعنی برائیوں سے روکنا ، نیکی کا حکم دینے کا فرض اگر ہم اپنے قلم سے ادا کریں گے تو علم حاصل کرنے کا حق ادا ہو جائے گا۔ علم کو خود تک محدود نہ رکھا بلکہ اسے ان لوگوں تک بھی پہنچایا جائے جو لا علم ہیں۔
آمین۔.

Comments (1)

👏👏👏👏👏

Leave a comment